نئی دہلی، 13؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ اگر کوئی دلت اپنا مذہب چھوڑ کرعیسائیت یا اسلام مذہب اختیار کرتا ہے تو وہ ریزرویشن سے محروم ہوجائے گا البتہ اگر وہ سکھ یا بودھ مذہب اختیار کرتا ہے تو اس کا دلتوں کو ملنے والا ریزرویشن بحال رہے گا اور اسے’ایس سی طبقہ‘ کے لیے ریزرو سیٹوں پر الیکشن لڑنے سمیت دیگر فائدے بھی حاصل رہیں گے ۔
روی شنکر پرساد نے اس سلسلے میں آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین (ایس سی) حکم کا پیرا تین ایس سی طبقہ کی ریاست وار فہرست کو متعارف کرتا ہے۔ اس کے مطابق کوئی شخص جو ہندو، سکھ اور بودھ مذہب سے الگ مانتا ہے اسے ایس سی (شیڈول کاسٹ) کا رکن نہیں سمجھا جائے گا۔ قابل قبول شیڈول کاسٹ سرٹیفکیٹ کے ساتھ کوئی بھی شخص محفوظ مقامات سے الیکشن لڑنے کا اہل ہے۔
روی شنکر پرساد نے یہ جواب بی جے پی لیڈر جی وی ایل نرسمہا راؤ کے ایک سوال پر دیا اور صاف کیا کہ اسلام یا عیسائی مذہب میں داخل ہونے والے دلت طبقہ کے لوگ شیڈول کاسٹ (ایس سی) کے لیے محفوظ سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ جب روی شنکر پرساد کے سامنے یہ سوال رکھا گیا کہ کیا عوامی نمائندہ قانون اور الیکشن گائیڈ لائنس میں ایسی کسی ترمیم پر غور کیا جا رہا ہے جس میں واضح ہو کہ اسلام یا عیسائی مذہب اختیار کرنے والے دلت ’ریزرو سیٹوں‘ سے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں ہوں گے، تو انھوں نے کہا کہ ’’حکومت کے پاس ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔‘‘